Sunday, 31 December 2023

 

رات کسی پہر میری آنکھ کھلی تو عجیب سا احساس ہوا۔ اچانک سانس رکی تھی یا دل کی دھڑکن جیسے کسی نے بہت بھاری پتھر میرے سینے پرلا رکھا ہو مجھے تو ابھی دل کا کوئی عارضہ نہیں تو پھر ایسا کیوں محسوس ہو رہا ہے شاید بہت دیر سے بائیں جانب کروٹ لیے سوتا رہا ہوں اب مجھے کروٹ بدلنی چاہیے ۔ ویسے بھی کروٹ نہ بدلنے کی وجہ بھی تو نہیں رہی۔ ایک بار پھر میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا ارے میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتا ہوں؟ میں نے خود کو جھڑ کا، نہیں رہی ؟ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ ایسے کیسے جاسکتی ہے، مانا میں نے کبھی اس کا ہاتھ تھام کر ساتھ جینے مرنے کی قسمیں نہیں کھائیں مگر کیا ہم مشرقی لوگ شادی کرتے وقت غیرارادی طور پر اپنے دلوں میں ایسے ہی عہد و پیمان نہیں کر لیتے کسی کے

 سمجھائے بغیر ایک دوسرے کو ٹھیک سے جانے پہنچانے بغیر ہی ہمیں ایک دوسرے سے محبت ہو جاتی ہے۔ ایسا میں نہیں، میری مرحوم اماں بی کہا کرتی تھیں جب شادی سے ایک رات پہلے میں نے ان کی گود میں منہ چھپا کر ڈرتے ڈرتے کہا تھا کہ۔ اماں بی بھلا میں کسی اجنبی عورت سے محبت کیسے کر سکتا ہوں جس کو بس ایک نظر دیکھا ہو جس کی آواز تک کی پہچان نہ ہوئی ہو، جس کی آہٹ کبھی محسوس نہ کی ہو ، جو خوشبو کون سی لگائی ہے وہ تک نہ معلوم ہو تو بھلا ایسے کسی کو کیسے دل دیا جاتا ہے؟ اور اماں بی نے ہمیشہ کی طرح کس قدر پیارسے سمجھایا تھا۔ محبت تم نہیں . وہ تم سے کرے گی اور تمہیں بس اس کی محبت کی عادت ہو جائے گی بیٹا ! عورت تو ہے ہی محبت ، سرتا پیر محبت 

مگر مرد، مرد زیادہ ترعادی ہوتا ہے۔ عورت کو معلوم ہے مرد کو عادی بنانا ہے۔ عقل مند عورت کبھی مرد کو محبت کرنے پر مجبور نہیں کرتی بس اپنی کا محبت کا عادی بنا دیتی ہے اور ہے اور مجھے اپنی بہو پر پر پورا پورا بھروسا ہے- تم زیادہ فکر نہ کرو، ایک دن تم آنکھ کھلو گے اور تمہیں لگے گا کہ بس آج سے تم اس کے بغیر نہیں رہ سکتے تمہیں اس کے کھو جانے سے ڈر لگنے لگے گا۔ تم اس کی چھوٹی چھوٹی نادانیوں پر ہنسو گے۔ مذاق اڑاؤ گے اس کی بیوقوفیوں پر طنز بھی کرو گے مگر اس سے دور ہو جانے کا خیال ہی تمہیں بے چین کر دے گا۔ اماں بی کی باتوں سے مجھ میں چھپا ضدی مرد ابھر کر سامنے آگیا۔

ہونہہ! میں ایسا ویسا کوئی معمولی بندہ نہیں کہ ذرا سی عورت کی محبت کے جال میں پھنس جاؤں۔ اماں بی تو مجھے ابھی تک چھوٹا سا بچہ ہی سمجھتی ہیں۔ میں چھوٹا بچہ نہیں تھا پھر بھی کتنی دیر تک اماں بی کی گود میں منہ چھپائے پڑا رہا۔ اماں بی غلط کہہ رہی ہیں کہ مرد محبت نہیں کرتا صرف عادی ہوتا ہے۔ مجھے کسی قدر محبت ہے اماں بی سے۔ ہمیشہ سے تھی گو میں گھر میں تین بھائیوں اور ایک چھوٹی بہن کا سب سے بڑا بھائی ہوں اور ابا میاں کے گزر جانے کے بعد میں نے ہی کم عمری سے ابا میاں کی جگہ سنبھال لی اور گھر کا کاروبار اپنے کندھوں پر لاد لیا تو کیا یہ سب صرف عادی ہونے پر کیا ؟ نہیں میں محبت کرتا ہوں بھائیوں سے ننھی سی بہن سے اور سب سے بڑھ کر اپنی اماں بی سے، ایسا الزام کیسے لگا سکتی ہیں اماں بی ہم مردوں پر کہ مرد محبت نہیں کرتا ؟ میں چاہتا تو اماں بی کو باتوں میں گھیر سکتا تھا مگر میں اماں بی سے الجھنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ کتنے دنوں بعد میری شادی کے سلسلے میں ہونے والے ہنگاموں میں دن رات مصروف ہو کر بھی بے حد مسرور تھیں۔ شاید ابا میاں کے بعد وہ پہلی بار اس قدر ہشاش بشاش تھیں تو اب میں ان کا مزاج برہم کیوں کرتا۔ میں کوئی گندا بچہ تھوڑی ہوں ۔ میں بچوں کی طرح کئی دوسری باتوں میں مگن اماں بی کی محبت و شفقت کا مزہ لیتا رہا تھا مگر دل ہی دل میں کہیں میرا خود سرمرد مکمل طور پر جاگ چکا تھا۔

 خیالوں کا سلسلہ ٹوٹا گھر کی غیر معمولی خاموشی کو محسوس کیا مگر پھر مطمئن ہو گیا۔ دونوں بچے تو شام سے ہی اپنی پھوپھو کے ساتھ چلے گئے تھے۔ چلو اچھا ہوا ورنہ میں بھلا ان کو کیسے سنبھالتا۔ یہ کام تو وہی کر سکتی ہے۔ مجھے تو ویسے بھی بچوں کو صاف ستھرا، مطمئن اور سکون سے بیٹھا دیکھنے کی عادت ہے۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کے بغیر بچوں کے ساتھ وقت گزاروں، کسی نامناسب بات پر ان کو جھڑکوں وہ ہوتی ہے تو میرے سامنے پتا نہیں کیسے دونوں بہت ہی شرارتی بچے مکمل طور پر ادب کے دائرے میں رہتے ہیں، مجھے ابھی تک نہیں معلوم کہ باپ کی ہزار ہا شفقت و محبت کے باوجود کس طرح ماں بچوں کے دلوں میں باپ کے لیے بے انتہا ادب ڈال دیتی ہے جیسے کوئی مالی بیج کو پانی دیتے دیتے تناور درخت بنا لیتا ہے تو اچھا ہی ہے سو بچے اپنی پھوپھو کے ساتھ چلے گئے۔ یہ ہدایات بھی اسی نے دی ہوں گی۔ وہ نہ ہو کر بھی موجود ہے۔

 میں نے سوچتے سوچتے کروٹ سوچنے کروٹ بدلی اور بستر کے دوسری جانب سپاٹ خالی جگہ نے مجھے مکمل طور پر بیدار کر دیا- پتا نہیں کیوں شادی کے گزرے آٹھ سالوں میں تقریبا ہر رات میں نے اس کی جانب کروٹ لے کر سونے میں قباحت محسوس کی۔ مجھے کس بات کا خوف رہا تھا، شاید اس بات کا کہ کہیں وہ جاگتی نہ ہو جیسا کہ وہ اکثر ہی جاگی رہتی تھی اور پھر میری اس کے چہرے پر نظر پڑی، ہم دونوں کی آنکھیں ملیں ، کمرے کے اندھیرے میں بھی اس کے چہرے کو دیکھنے سے اجتناب کرتا تھا اور آج رات جبکہ وہ میرے برابر میں نہیں تھی تو پورے بستر پر پھیل کر سونے کے بجائے اس کے حصے کی صاف ستھری چادر کی سلوٹ خراب ہونے کے ڈر سے کب سے بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ میں ایسا کیوں کرتا رہا تھا ۔ پتا نہیں میں یہ آج کسی قسم کی باتوں میں الجھتا چلا جا رہا ہوں۔ میں نے ایک بار پھر خود کو جھڑکا اور باورچی خانے جا کر پانی پینے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ باورچی خانے میں ہر طرف شام سے گھر میں ہر طرح کے آنے جانے والوں کے کھانے پینے کے آثار نمایاں تھے۔ اچانک میں مسکرا گیا ایک یا ڈیڑھ ہفتہ پہلے ہی میرا سات سالہ بڑا بیٹا اسکول جانے کے لیے تیار اپنی وین کا انتظار کرنے کے دوران اپنی ماں سے بیسن یا سینک کا اردو میں ترجمہ پوچھ رہا تھا، اتفاق سے اس وقت میں بھی باورچی خانے کے ایک کونے پر رکھی تین کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھا سامنے رکھی میز پر اخبار پھیلائے ناشتے کا انتظار کر رہا تھا۔ بیٹے کی بات پر میں متوجہ ہوا ہی تھا کہ اس نے اپنی دھیمی اور نرم آواز میں بیٹے کو ترجمہ بتا دیا۔ واش بیسن یا سینک کو اردو میں سلفچی کہتے ہیں۔

 جب یہ لفظ ، سلفچی ، مجھ جیسے اردو کی اچھی خاصی تعلیم حاصل کیے آدمی کی سمجھ میں نہ آسکا تو بیٹا تو بہت چھوٹا تھا۔ اور آج کل کے بچوں کی طرح اردو بول چال سے دور بھی۔ کیا سیلفی چی؟ بیٹے نے حیران ہو کر ماں کے ساتھ تیزی سے چلتے ہوئے پوچھا۔ وہ توے سے پراٹھا اتار کر پلیٹ میں رکھے میری ہی طرف آ رہی تھی۔ اس کے دوسرے ہاتھ میں تلے ہوئے انڈے کی پلیٹ تھی۔ بیٹے کی بات پر نجانے کیوں وہ تیزی سے چلتے ہوئے ٹھٹک کر رکی، ہم دونوں کی نظریں ملیں اور بے اختیار ہم دونوں ایک ساتھ ہنس پڑے۔ اور اس ایک بات پر میں پورا دن خود سے کس قدر ناراض رہا تھا۔ بھلا مجھے ایسے ذراسی بات پر اس کے بنسنے کا ساتھ دینے کی ضرورت ہی کیا تھی، ویسے بھی بیٹے کی طرح تو مجھے بھی سلفچی کچھ خاص سمجھ میں نہ آسکا تھا تو پھر میں یوں ہی اپنے اخبار کی طرف متوجہ رہتا۔

 

ایک بار پھر سر جھٹک کر میں نے پلٹ کر سلفچی کو دیکھا۔ اس میں گندے برتن کا ڈھیر تھے۔ آج شام سے میری چھوٹی بہن نے ہی گھر سنبھالا ہوا تھا۔ بچے اسکول سے واپس آئے توان کو پرسکون رکھنا، گھر میں آنے والوں کو چائے پانی دینا دلانا، یوں تو میرے بھائیوں کی بیویاں بھی موجود تھیں مگر خود بخود جیسے پورے گھر کی باگ دوڑ میری چھوٹی بہن نے سنبھال لی تھی۔ میں جانتا تھا ایک میں ہی کیا سب ہی پریشان تھے پھر بھی میں یہی امید کر رہا تھا کہ چھوٹی بہن باورچی خانہ اس قدر پھیلا ہوا چھوڑ کر نہیں جائے گی۔ دل تو چاہا رات کہ اس پہر چھوٹی بہن کو اور بھائیوں کی بیویوں کو فون لگا کر کھری کھری سنا ڈالوں … کیوں بھئی کبھی دیکھا میرے گھر کا باورچی خانہ اس قدر پھیلا ہوا بے ہنگم اور گندا اور یہ پانی کی ٹھنڈی بوتلیں نکالی تھیں تو بھرکر واپس بھی نہ رکھی گئیں۔ یہ بھی نہیں سوچا کہ پیچھے بھی لوگ آسکتے ہیں تو کیا اب آنے والوں کو اس گرمی میں ٹھنڈا پانی بھی نہ ملے یعنی میرے گھر میں کوئی آئے اور اس طرح پیاسا رہے- گندے برتن دھونے تو دور کی بات سمیٹ کر بھی نہیں رکھے گئے جس نے جو چاہا فریج سے نکال کر کھایا پیا اور بقایا میز پرھی چھوڑ کر چلتا بن،ا کیا جا سکتا ہے تم سب کی عادت ہی بگڑی ہوئی ہے۔ میرے گھر میں آ کر تو تم سب کو یاد ہی نہیں رہتا کہ انسان کے اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے کے کچھ آداب ہوتے ہیں- یہ بار بار میرا گھر ، میرا گھر کیا لگا رکھا ہے کسی نے چپکے سے میرے کان میں کہا یہ جو تم اس قدر ترائے ہوئے سب کو میرا گھر میرا گھر کہہ کر شرمسار کرنے کا سوچ رہے ہو تو کبھی سوچا کہ اگر وہ اس گھر میں ہردم چلی پھرتی محنت مشقت کرتی کونے کونے کی دیکھ بھال نہ کرتی ہوتی تو کیا فقط ان چار دیواروں کو تم میرا گھر کہہ سکتے تھے؟ سچ بات ہے دنیا کا دستور یہی ہے محنت کسی کی اور شاباش کوئی اور سمیٹتا ہے۔ چھوٹی بہن یقینا بھول گئی تھی۔ شاید اسے یادہی نہیں رہا ہو کہ آج کی رات میں نے خود کو اس کی کمی کو محسوس کرتے سوچ کر جلدی سے اپنی توجہ باورچی خانے کی حالت زار پر مرکوز کی۔ ٹھنڈے پانی کے لیے فریج کھولا تو پانی کی ایک بھی بوتل نہ ملی بلکہ شادی کے بعد سے آج پہلی بار مجھے اپنے گھر کا فریج کھول کر بھی اجنبیت کا احساس ہوا تھا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ میں نے فریج کھولا ہو اور گھر پر بنے انواع و اقسام کی کھانے پینے کی اشیاء سے بھرا ہوا نہ ہو۔

 

بجے تو ہمارے دو ہی تھے میں بھی دن بھر آفس میں رہتا مگر ہمارے گھر مہمان بہت آتے تھے اور مہانوں کا اکرام کرنا وہ خوب جانتی تھی اور اچانک آنے والی رحمت کو یہ بھی اپنی مہمان داری سے مایوس ہونے نہیں دیتی تھی۔ ہوتے ہیں دی گی۔ برکت خود ہی عود آتی۔ اس نے کبھی گھر کے خرچے کو بڑھانے کا نہیں کہا۔ مجھے اکثر حیرت ہوتی کہ کسی طرح وہ میری محدود آمدنی میں بچوں کے ساتھ ساتھ گھر کے اخراجات بھی سنبھال رہی تھی مگر میں اپنی حیرت اپنے تک ہی محدود رکھتا۔ اس سے بلاوجہ بات چھیڑنا اور بات سے بات نکال کر باتیں کرنا مجھے کبھی نہیں بھایا۔ اس نے بھی مجھے بھی تنگ نہیں کیا اس کی مصروفیات ہی اس قدر ہوتی تھیں۔ گھر کی صفائی، کھانا پکانا، کپڑے دھونا ، استری کرنا بچوں کو پڑھانا ، مہمانوں کے آنے پر ان کی خاطر داری، وہ ہر وقت ایک مشین سی بنی پورے گھر میں دوڑتی پھرتی تھی۔ ہمارا پرانی طرز کا ایک سو بیس گز پر بنا آبائی گھر کا کوئی کونا ایسا نہ تھا جہاں اس کی موجودگی محسوس نہ کی جا سکتی ہو- وہ ہر جگہ ہر وقت ہر طرف اپنے سلیقے اور محنت کی نشانی چھوڑ جاتی تھی اور میں چاہ کر بھی اس سے ناراضی کا کوئی بہانہ ڈھونڈ نہیں پاتا تھا۔ میرے بھائی بہن ان کے بچے میرے بوڑھے جوان رشته دار دوست احباب ان کی بیویاں ، بیٹیاں مائیں سب کے سب اس کے اخلاق کے گرویدہ تھے۔ اس کی خوش مزاجی اور مہمان نوازی کے چرچے تھے ہمیں بہت ذوق و شوق سے محفلوں میں بلایا جاتا تھا غم و خوشی میں ہمیں شامل کرنا ضروری سمجھا جاتا تھا اور میں جانتا تھا کہ یہ سب اس کی ہی خوش اخلاقی کی بدولت تھا مگر مانتا کہاں تھا۔

 


Saturday, 30 December 2023

ماں کی ممتا

 بستر مرگ پر جب بار بار میں اپنی کوتاہیوں کی ان سے معافی طلب کر رہا تھا تو کہنے لگیں میں راضی ہوں بیٹا․․․․کاہے کو بار بار معافی مانگتا ہے

Click Here For More Stories


ملک خداداد خان

ہمیں اماں جی اس وقت زہر لگتیں جب وہ سردیوں میں زبردستی ہمارا سر دھوتیں۔لکس‘کیپری‘ریکسونا کس نے دیکھے تھے کھجور مارکہ صابن سے کپڑے بھی دھلتے تھے اور سر بھی۔آنکھوں میں صابن کانٹے کی طرح چبھتا اور کان اماں کی ڈانٹ سے لال ہو جاتے۔ہماری ذرا سی شرارت پر اماں آگ بگولہ ہو جاتیں اور کپڑے دھونے والا ڈنڈا اُٹھا لیتیں جسے ہم ڈمنی کہتے تھے۔

لیکن مارا کبھی نہیں۔کبھی عین وقت پر دادی جان نے بچا لیا‘کبھی بابا نے اور کبھی ہم ہی بھاگ لئے۔گاؤں کی رونقوں سے دور عین فصلوں کے بیچ ہمارا ڈیرہ تھا۔ڈیرے سے پگڈنڈی پکڑ کر گاؤں جانا اماں کا سب سے بڑا شاپنگ ٹور ہوا کرتا تھا اور اس ٹور سے محروم رہ جانا ہماری سب سے بڑی بدنصیبی!اگر کبھی اماں اکیلے گاؤں چلی جاتیں تو واپسی پر ہمیں مرونڈے سے بہلانے کی کوشش کرتیں۔


Click Here For More Stories


ہم پہلے تو ننھے ہاتھوں سے اماں جی کو مارتے․․․ان کا دوپٹا کھینچتے․․․․․پھر ان کی گود میں سر رکھ کر منہ پھاڑ پھاڑ کر روتے۔کبھی اماں گاؤں ساتھ لے جاتیں تو ہم اُچھلتے کودتے خوشی خوشی ان کے پیچھے پیچھے بھاگتے۔شام گئے جب گاؤں سے واپسی ہوتی تو ہم بہت روتے ہمیں گاؤں اچھا لگتا تھا۔”ماں ہم گاؤں میں کب رہیں گے؟“میرے سوال پر اماں وہی گھسا پٹا جواب دیتیں”جب تو بڑا ہو گا نوکری کرے گا بہت سے پیسے آئیں گے تیری شادی ہو گی وغیرہ وغیرہ۔

“یوں ہم ماں بیٹا باتیں کرتے کرتے تاریک ڈیرے پر آن پہنچتے۔

مجھے یاد ہے گاؤں میں بابا مظفر کے ہاں شادی کا جشن تھا۔وہاں جلنے بجھنے والی بتیاں بھی لگی تھیں اور پٹاخے بھی پھوٹ رہے تھے۔میں نے ماں کی بہت منت کی کہ رات ادھر ہی ٹھہر جائیں لیکن وہ نہیں مانیں۔جب میں ماں جی کے پیچھے روتا روتا گاؤں سے واپس آ رہا تھا تو نیت میں فتور آ گیا اور چپکے سے واپس گاؤں لوٹ گیا۔

شام کا وقت تھا ماں کو بہت دیر بعد میری گمشدگی کا اندازہ ہوا۔وہ پاگلوں کی طرح رات کے اندھیرے میں کھیتوں میں آوازیں لگاتی اور ڈیرے سے لے کر گاؤں تک ہر کونے میں لالٹین لٹکا کر جھانکتی رہی۔رات گئے جب میں شادی والے گھر سے بازیاب ہوا تو وہ شیرنی کی طرح مجھ پر حملہ آور ہوئیں۔اس رات اگر گاؤں کی عورتیں مجھے نہ بچاتیں تو اماں مجھے مار ہی 

ڈالتیں۔


Click Here For More Stories


ایک بار ابو جی اپنے پیر صاحب کو ملنے سرگودھا گئے ہوئے تھے میں اس وقت چھ سات سال کا تھا۔مجھے شدید بخار ہو گیا۔اماں جی نے مجھے گرم چادر میں لپیٹ کر کندھے پر اُٹھایا اور کھیتوں سے گزرتی تین کلو میٹر دور گاؤں کے اڈے پر ڈاکٹر کو دکھانے لے گئیں۔واپسی پر ایک کھالے کو پھلانگتے ہوئے وہ کھیت میں گر گئیں لیکن مجھے بچا لیا۔انہیں شاید گھٹنے پر چوٹ آئی ان کے منہ سے میرے لئے حسبی اللہ نکلا۔

یہ واقعہ میری زندگی کی سب سے پرانی یادداشتوں میں سے ایک ہے۔یقینا وہ بڑی ہمت والی خاتون تھیں اور آخری سانس تک محنت مشقت کی چکی پیستی رہیں۔پھر جانے کب میں بڑا ہو گیا اور اماں سے بہت دُور چلا گیا۔سال بھر بعد جب گھر آتا تو ماں گلے لگا کر خوب روتی لیکن میں سب کے سامنے ہنستا رہتا۔پھر رات کو جب سب سو جاتے تو چپکے سے ماں کے ساتھ جا کر لیٹ جاتا اور اس کی چادر میں منہ چھپا کر خوب روتا۔

ماں کھیت میں چارہ کاٹتی اور بہت بھاری پنڈ سر پر اُٹھا کر ٹوکے کے سامنے آن پھینکتی۔کبھی کبھی خود ہی ٹوکے میں چارہ ڈالتی اور خود ہی ٹوکہ چلاتی۔جب میں گھر ہوتا تو مقدور بھر ان کا ہاتھ بٹاتا۔جب میں ٹوکہ چلاتے چلاتے تھک جاتا تو وہ سرگوشی میں پوچھتیں ”بات کروں تمہاری فلاں گھر میں؟“ وہ جانتی تھی کہ میں پیدائشی عاشق ہوں اور ایسی باتوں سے میری بیٹری فل چارج ہو جاتی ہے۔

پھر ہم نے گاؤں میں گھر بنا لیا اور ماں نے اپنی پسند سے میری شادی کر دی۔میں فیملی لے کر شہر چلا آیا اور ماں نے گاؤں میں اپنی الگ دنیا بسا لی۔وہ میرے پہلے بیٹے کی پیدائش پر شہر بھی آئیں۔میں نے انہیں سمندر کی سیر بھی کرائی۔کلفٹن کے ساحل پر چائے پیتے ہوئے انہوں نے کہا ”اس سمندر سے تو ہمارے ڈیرے کا چھپڑ زیادہ خوبصورت لگتا ہے۔“

ماں بیمار ہوئی تو میں چھٹی پر ہی تھا انہیں کئی دن تک بسکو پان کھلا کر سمجھاتا رہا کہ معمولی پیٹ کا درد ہے۔

جلد افاقہ ہو جائے گا۔پھر درد بڑھا تو شہر کے بڑے ہسپتال لے گیاجہاں ڈاکٹر نے بتایا کہ جگر کا کینسر آخری سٹیج پر ہے۔خون کی فوری ضرورت محسوس ہوئی تو میں خود بلڈ بینک بیڈ پر جا لیٹا۔ماں کو پتا چلا تو اس نے دکھ سے دیکھ کر اتنا کہا ”کیوں دیا خون خرید لاتا کہیں سے پاگل کہیں کا!“ میں بمشکل اتنا کہہ سکا ”اماں خون کی چند بوندوں سے تو وہ قرض بھی ادا نہیں ہو سکتا جو آپ مجھے اُٹھا کر گاؤں ڈاکٹر کے پاس لے کر گئیں تھیں اور واپسی پر کھالا پھلانگتے ہوئے گر گئی تھیں۔


Click Here For More Stories


“وہ کھلکھلا کر ہنسیں تو میں نے کہا ”اماں مجھے معاف کر دینا میں تیری خدمت نہ کر سکا۔“

میرا خیال ہے کہ میں نے شاید ہی اپنی ماں کی خدمت کی ہو گی۔وقت ہی نہیں ملا۔لیکن وہ بہت فراخ دل تھیں بستر مرگ پر جب بار بار میں اپنی کوتاہیوں کی ان سے معافی طلب کر رہا تھا تو کہنے لگیں ”میں راضی ہوں بیٹا․․․․کاہے کو بار بار معافی مانگتا ہے!!!“ماں نے میرے سامنے دم توڑا لیکن میں رویا نہیں۔

دوسرے دن سر بھاری ہونے لگا تو قبرستان چلا گیا اور قبر پر بیٹھ کر منہ پھاڑ کر رویا۔ماں سے بچھڑے مدت ہو گئی۔اب تو یقین بھی نہیں آتا کہ ماں کبھی اس دنیا میں تھی بھی کہ نہیں۔


Click Here For More Stories


آج بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے پٹھانوں اور سوڈانیوں کے ہاتھوں فٹ بال بنتا بنتا جانے کیسے دیوار کعبہ سے جا ٹکرایا۔یوں لگا جیسے مدتوں بعد پھر ایک بار ماں کی گود میں پہنچ گیا ہوں۔وہی سکون جو ماں کی گود میں آتا تھا وہی اپنائیت وہی محبت جس میں خوف کا عنصر بھی شامل تھا․․․․اس بار منہ پھاڑ کر نہیں دھاڑیں مار مار کر رویا․․․ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا رب کعبہ․․․․اور ہم سدا کے شرارتی بچے۔

Click Here For More Stories


Kamil Emaan

        تمہارے  دلہا بھائی کا بس چلے تو ہر وقت رعب ہی چلاتے رہیں مجھ پر یہ کرو، وہ کرو یہ نہ کرو ہونہہ ۔ پندرہ سالہ مریم کے ہاتھ جو نوٹ بک پہ تیزی سے کچھ لکھنے میں مگن تھے بڑی بہن کے تلخ لہجے میں کی گئی شکایت یا پھر بھڑاس پہ تھم گئے۔ جبکہ بڑی بہن صاحبہ اپنی کہہ کر گنگناتی ہوئی نائٹ کریم سے پیروں سے مساج کرنے میں مگن ہوئیں۔ کمرے کے باہر سے گزرتی صفیہ بیگم کے کانوں میں واضح طور پر رمشا کے الفاظ پڑے تھے۔ جب ہی وہ تیزی سے کمرے میں داخل ہوئیں۔ مریم تمہارا کام ہو گیا کیا جو گپیں لڑا رہی ہو اور رمشا تم ۔ رمشا کو قہر برسانی نگاہوں کی زد میں لیا۔ ذرا میرے ساتھ آؤ مجھے تم سے بات کرنی ہے۔ کہہ کر وہ تیزی سے چلی گئیں

Click Here For More Stories  

 جبکہ رمشا کا مساج کرتا ہاتھ رک گیا۔ مجھ سے کیا کام بھلا ابھی تو ڈیڑھ گھنٹا بیٹھ کر آرہی ہوں۔ بڑبڑاتے ہوئے سلیپرز میں پاؤں گھسائے اور انہیں ڈھونڈتی ہوئی باہر لان میں چلی آئی۔ صفیہ بیگم کرسی پہ بیٹھی ہوئی تھیں اور سر جھکائے کسی گہری سوچ میں گم لگ رہی تھیں۔ اسے دیکھ کر ماتھے پہ شکنیں دوبارہ سے لوٹ آئیں۔ اس کا ہاتھ پکڑ کر ایک جھٹکے سے اپنے برابر بٹھایا، ایسے کہ رمشا کی چیخ نکل کر رہ گئی۔ آہ امی! کیا ہو گیا آپ کو فورا سے آنکھیں ٹپ ٹپ برسنے کے لیے تیار ہو گئیں مگر صفیہ بیگم نے جھپٹ کر اس کا بازو دبوچ لیا۔ دیکھو رمشا ایک بات کان کھول کر سن لو اگریہاں آنا ہے تو اپنی زبان کو لگام دو ابھی ڈیڑھ گھنٹا تم میرے پاس سسرال کی چغلیاں کر کے گئی ہو اب مریم کا دماغ مت خراب کرو کہیں وہ بھی میری طرح، انہوں نے کہتے کہتے بات ادھوری چھوڑی پھر تیزی سے بات بدل ڈالی۔ خیر آئندہ ایسا ہوا تو سمجھو تمہارا اس گھر میں داخلہ بند ۔ رہنا اسی گھر میں جن کا حلال کھا پی کر ان کے پیٹھ پیچھے غیبت سے حرام کر رہی ہو۔ درشت لہجے میں کہہ کر ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ چھوڑا اور اندر کی طرف بڑھنے لگیں کہ رمشا نے اپنے دکھتے بازو کو چھوڑ کر ان کا ہاتھ تھام لیا۔ امی بات تو سنیے ہوا کیا ہے ایسے کیوں کہہ رہی ہیں۔

Click Here For More Stories  

آج سے پہلے تو میری باتوں پہ کچھ نہیں کہا آپ نے۔ آج ہی احساس ہوا ہے۔ افسوس، بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا ۔ صفیہ بیگم نے پلٹے بغیر دھیمی آواز میں کہا۔ جبکہ رمشا بے چین ہوگئی۔ ٹھیک ہے میں آئندہ ایسی کوئی بات نہیں کروں گی لیکن اس سے آگے تو بتایے کہ میری طرح کیا؟ رمشا کے اصرار پہ صفیہ بیگم کرسی پہ ڈھے سی گئیں ۔ انداز ہارا ہوا تھا آج ان کا دل بھر آیا، ہمراز ملتے ہی سارے پچھتاوے پھر سے جاگ اٹھے تھے۔ تمہارے ابو میرے منجھلے چچا کے بیٹے ہیں، ندیم چچا کے۔ جب ہمارا رشتہ ہوا تو پورے خاندان میں ان کی خوش مزاجی کے دور دور تک چرچے تھے۔ صفیہ بیگم بتاتے گویا اسی منظر میں کھوئی گئیں۔

ہائے صفیہ! تیری قسمت کتنی اچھی ہے نا، کتنے ہینڈ سم دلہا بھائی ملے ہیں نا ۔ خالہ زاد بینش نے اس کے ماتھے کی بندیا ٹھیک کرتے ہوئے کہا تو اس کی پلکیں فطری شرم سے جھک گئیں۔ رخساروں پہ لالی ابھر آئی تھی۔ کاش مجھے بھی اتنا خوش اخلاق نرم گفتار ہم سفر ملتا۔ میری قسمت میں وہ پان چباتا لال لال آنکھوں والا عامر ہی رہ گیا تھا ۔ ماموں زاد ہانیہ کے لہجے میں ، دل میں کہیں چھپا حسد عیاں ہو رہا تھا مگر صفیہ اپنی دھڑکتی دھڑکنوں کے شور میں سب سے بے نیاز اپنے خوبرو ہم سفر کامل کے خیالوں میں گم تھی اس لیے اس کا حسد زدہ لہجہ محسوس نہیں کر پائی۔ ویسے تو ہانیہ اس کے نکاح سے پہلے عامر کے ساتھ منگنی پر اترائی پھرتی تھی لیکن جب سے صفیہ کے لیے کامل کا رشتہ آیا تھا اسے عامر سے اللہ واسطے کا بیر ہو گیا تھا۔ عامر کی خوبیاں بھی خامیاں لگتی جو تھیں اور گنی چنی خامیوں میں سے سب سے بڑی خامی اس کا پان کھانا اسے بہت چھبنے لگا تھا- مگراسی ہانیہ کے خیالات صفیہ کے نکاح پہلے

Click Here For More Stories 

کچھ اور تھے۔

 عامر ایسے پان کھاتے کسی فلم کے ہیرو لگتے ہیں اللہ ۔ ساتھ ہی ساتھ دوپٹے کا کونا شرم سے دانت تلے دبایا جاتا اورساری کزنز رشک و جلن کے مارے اسے تکتی رہ جاتی تھیں۔ سب اپنی اپنی جگہ صفیہ کی خوش قسمتی کے متعلق سوچوں میں گم تھیں کہ اچانک دھاڑ سے دروازہ کھلا۔ ساری خالہ زاد ماموں زاد شادی شدہ کزنز سیلاب کے ریلے کی طرح اندر ٹھس آئی تھیں ۔ صفیہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ کوئی بھائی بہن نہ ہونے کی وجہ سے سب اس سے اور وہ سب سے بہت پیار کرتی تھی۔ چلو بھی لڑکیوں اس سے پہلے بارات آئے تم لوگ نو دو گیارہ ہو جاؤ، ہمیں صفیہ سے تھوڑی پرسنل باتیں کرنی ہیں ۔ سب سے بڑی نرمین نے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے معنی خیز انداز میں آنکھ مارتے ہوئے لڑکیوں کو کھسکنے کا اشارہ کیا جس پر وہ برے برے منہ بناتی ہوئی باہر نکل گئیں۔ ان سب کے جاتے ہی شزا نے دروازے کو لاک کیا۔ دروازہ لاک ہوتے ہی سب اس کے قریب گھیرا ڈال کر کھڑی ہو گئی تھیں ۔ اللہ ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں آپ سب مجھے ۔ صفیہ نے پریشان ہو کر کہا آنکھوں میں نمی بھی کہیں سے نمودار ہونے لگی تھی ، اس کی یہ حالت دیکھ کر ان پانچوں نے اپنے سر ہاتھوں پہ گرا لیے۔ میری معصوم شہزادی اگر یہی انداز تم اپنے سرال لے کر گئی نا تو سمجھو اگلے دن تمہارا جنازہ ہی نکلے گا وہاں سے۔ نرمین کی بات پہ صفیہ کا رنگ لٹھے کی طرح سفید ہو گیا۔

Click Here For More Stories 

 

اس کی روتی آواز پہ وہ پانچوں ایک دوسرے کے ہاتھ پہ ہاتھ مار کر ہنسنے لگیں

۔ سچ جنازہ وہ کیوں نرمین آپی! نرمین کا مطلب تھوڑی ہوشیاری لاؤ اپنے چہرے پر اور یہ بات بات پے رونا تمہیں کمزور کر رہا ہے، مضبوط بنو۔ شزا کی بات پر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔

افوہ شزا آپی! میں کون سا جنگ پر جا رہی ہوں، کیا ہو گیا عقیلہ آپی آپ کو ۔ چاچا چاچی مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں اور عائزہ اور سجل تو مجھ سے بالکل بڑی بہنوں والے لاڈ کرتی ہیں کامل کی تعریف میں تو ویسے ہی ہر کوئی رطب اللسان رہتا ہے- انگلیاں مروڑتے ہوئے اس نے اپنی سسرال کا دفاع کیا تو وہ پانچوں اپنے سر پیٹ کر رہ گئیں۔ بیٹا یہ تو تمہیں سسرال جا کر ہی پتا چلے گا اور ہاں ذرا میاں صاحب سے نرم آواز میں بات نہ کرنا اور نہ ہی نندوں کو منہ لگانے کی ضرورت ہے ساس کو پہلے دن تیور دکھاؤ گی تو ہی سب تم سے دب کر رہیں گے ۔ عقیلہ نے اس کے رخسار پہ بلش آن مزید گہرا کرتے ہوئے ایک نئی پٹی پڑھائی تو وہ ہکا بکا رہ گئی۔ بھئی یہ جو مرد ہوتے ہیں نا پورے زمانے کے لیے خوش مزاج ہو سکتے ہیں لیکن بیوی کے لیے صرف خشک مزاج ہی ثابت ہوتے ہیں اگر ہم ان کے رعب دکھانے سے پہلے اپنا رعب دکھا

Click Here For More Stories 

 

دیں تو ان کی خشک مزاجیاں ہوا ہو جاتی ہیں آئی سمجھ ۔ رخسار نے اس کے سر پہ ہلکی سی چپت لگائی تو وہ جھینپ گئی۔ لیکن مجھے کیا کرنا ہو گا جس سے کامل میرے رعب میں آجائیں۔ تھوک نگلتے ہوئے پوچھا تو پانچوں خوشی کے مارے اچھل ہی تو پڑیں شکر اتنا سمجھانے کا کچھ تو اثر ہوا۔ پانچوں اپنے اپنے تجربات کی روشنی میں اسے سمجھانے لگیں جسے وہ تیزی سے ذہن نشین کرتی جا رہی تھی۔

        السلام علیکم بہت پیاری لگ رہی ہیں۔ کامل نے سلام کے ساتھ چھوٹتے ہی اس کی تعریف کی۔ اس کے لبوں پہ من مومہنی مسکراہٹ ابھر آئی نگاہ اٹھا کر دیکھا ابھی تعریف کرنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ اس کے ذہن میں اپنی پانچوں کزنز کی باتیں گردش کرنے لگیں ۔ شکریہ تعریف کے لیے لیکن آپ کے سوٹ کا کلر بالکل پیارا نہیں۔ کہتے کہتے نگاہ کامل کے مضبوط ہاتھوں پہ جا رکی ۔ اور گھڑی کی چوائس تو بالکل ہی بے کار ہے۔ کہ کر ایک نخوت بھری نگاہ اس کی طرف دوڑائی اور سر جھکائے اپنی چوڑیوں سے کھیلنے لگی۔ کامل اس کی پہلی بات پر حیران تھا کہ دوسری بات پہ تو بھونچکا ہی رہ گیا۔ جہاں تک اس کی معلومات تھیں صفیہ اتنی معصوم ہے کہ معصومیت لفظ کی مثال کے طور پر اسے پیش کیا جا سکتا ہے۔ ان کے خاندان میں شرعی پردہ کیا جاتا تھا اس لیے صفیہ کے متعلق ساری معلومات اسے اپنی ماں بہنوں سے حاصل ہوئی تھیں جو اس کی تعریف ہی کرتے نہ تھکتی تھیں۔ یا اللہ یہ زوجہ محترمہ کو کیا ہو گیا ۔ وہ دل ہی دل میں سوچتا قمیض کی سائیڈ پاکٹ سے ڈبی نکالنے لگا۔ آپ کا تحفہ جھجکتے ہوئے ڈبی آگے کی تو وہ اپنی پسندیدہ پازیب دیکھ کر خوشی سے اچھل ہی تو پڑی پھر ایک دم لب بھینچے پھر قدرے لاپروائی سے ڈبیا سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی۔ اچھی ہے لیکن وائٹ گولڈ کی ہوتی تو زیادہ اچھا تھا ۔ کامل اس کی بات پر اب حیران سے زیادہ پریشان نظر آرہا تھا۔ آریو او کے ۔ نرمی سے پوچھا تو صفیہ گڑ بڑا گئی۔ پھر لاپروائی سے کندھے اچکا دیے۔ نہیں میں اس لیے پوچھ رہا تھا کیونکہ یہ پازیب وائٹ گولڈ کی ہی ہے۔ کامل نے شرارت سے نچلا لب دباتے ہوئے کہا تو صفیہ کی بے نیازی پر گھڑوں پانی پر گیا تھا۔ اچھی ہے۔ کافی دیر بعد حلق سے بمشکل آواز برآمد ہوئی۔ کامل کچھ کچھ سمجھ گیا تھا کہ اس کی زوجہ کے ساتھ اصل میں مسئلہ کیا ہے کیونکہ یہی مسئلہ اسے بھی دوستوں نے کزنز نے رات سے تین گھنٹے پہلے سمجھانا شروع کر دیا تھا۔

 

Click Here For More Stories 

        ہائے اللہ امی کتنی رومانٹک اسٹوری ہے۔ آگے کا بتائیں نا پھر کیا ہوا ۔ صفیہ بیگم سانس لینے کے لیے رکیں تو رمشا کا سارا مزا کرکرا ہو گیا جبکہ صفیہ بیگم تو لفظ رومانٹک پر ہی جھینپ گئی تھیں۔ بتاؤ ابھی یہ میں بتاؤں پھر آگے کیا ہوا، جب عقب میں فوراً کامل صاحب کی شرارتی آواز پہ وہ دونوں پلٹیں۔  صفیه بیگم شرمندگی سے اور رمشا جوش سے پلٹیں بیٹا کیا ہونا تھا۔ کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے کن اکھیوں سے صفیہ بیگم کے شرمندہ چہرے پر نگاہ دوڑائی۔ ولیمے والے دن صبح ناشتے میں اماں نے تمہاری ماں سے پوچھے بنا ہی ناشتا بنوالیا کیونکہ ان کو اپنی بچی کی پسند نا پسند کا پوری طرح علم تھا لیکن تمہاری ماں نے فرائی انڈہ اور پر اٹھا دیکھتے ہی نخوت سے پلیٹ سائڈ پہ کی اور کہا میں تو حلوہ پوری کھاؤں گی۔ آہ۔ میری جنتی ماں ہکا بکا رہ گئیں۔ مصنوعی سرد آہ بھری تو صفیہ بیگم انہیں گھور کر رہ گئیں۔ تو بس پھر روز یہی ہونے لگا کہیں گھومنے پھرنے کی بات ہوئی تو انہوں نے کہا میں تو سڈنی جاؤں گی۔ ہم نے خواب میں آج تک سڈنی نہ دیکھا اور یہ زبردستی کے دیکھے خواب کی تعبیر نکالنے بیٹھ گئی تھیں۔ خیر بڑا سمجھا بجھا کر کشمیر گئے وہاں بھی انہوں نے اپنی چلائی دس دن کا پروگرام لے کر چلے تھے یہ اڑ گئیں کہ میں تو پورے بیس دن رہوں گی بس پھر ماننی پڑی۔ ان کے بے چارگی بھرے انداز پر رمشہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ پھر کیا اب تک امی ایسے ہی کرتی ہیں۔ رمشہ نے صفیہ بیگم کی طرف حیرانی سے دیکھتے ہوئے پوچھا کیونکہ اس نے اپنی ماں کو ہمیشہ شوہر کی خدمت کرتے اور ہر خواہش کے آگے سر جھکاتے ہی دیکھا تھا۔ تم بیچ میں بولو گی تو کہانی کیسے مکمل ہوگی- کامل صاحب ہلکا سا جھنجلا گئے۔ رمشا فورا لبوں پہ انگلی رکھ کر بیٹھ گئی۔ صفیہ بیگم اس کی بے چینی پہ کھل کر مسکرا اُٹھیں ۔ کتنا شوق ہوتا ہے نا بچوں کو اپنے والدین کی پچھلی زندگی کے بارے میں جاننے کا۔ خیر جب سیر کر کے واپس آئے اور یہ اپنے میکے رہنے گیں اور جب واپس آئیں تو بس نہ پوچھو پھر کیا ہوا ۔ کامل صاحب اپنے دونوں کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے تو بہ توبہ کرنے لگے جس پر صفیہ بیگم نے انہیں زبردست طریقے سے گھور کر دیکھا۔ جبکہ رمشا کا دل چاہا اس کے ماں باپ کی زندگی کی کہانی کسی ڈی وی ڈی میں موجود ہوتی اور وہ سکون سے لگا کر دیکھ لیتی ۔ کم از کم اس میں یہ وقفے کے اشتہار تو نہ آتے۔ بابا اتنا سسپنس کیوں ڈال رہے ہیں کہانی میں۔ میرا سانس پھول رہا ہے

Click Here For More Stories 

 

 

جس کے مارے ۔ اس کے روٹھے انداز پر کامل صاحب ہلکا سا قہقہہ لگا کر ہنس پڑے محترمہ بھی آپ پر گئی ہیں اور تجسس کے مارے سانس پھول رہا واہ ۔ کامل صاحب نے شرارتی انداز میں ہاتھ ہوا میں لہرا کر کہا تو رمشا جھینپ سی گئی جبکہ صفیہ بیگم نے کانوں کو ہاتھ لگا ڈالے۔ بھئی ہوا یوں جب یہ اپنے میکے سے واپس آئیں تو تیور پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ۔ بات کرو تو کاٹ کھانے کو دوڑتیں۔ میری معصوم ماں پوچھتی بیٹا تھک تو نہیں گئیں آرام کر لو یہ آگے سے کہتیں تھکیں میرے دشمن، میں کوئی بیمار ہوں اللہ معاف کرے۔ یعنی ہر بات کو الٹ کر کے یہ ہمیں الٹائے دے رہی تھیں۔ دل تو کر رہا تھا ان کی کزنز کو پکڑ کر سبق سکھا ئیں کہ وہ ساری زندگی یا د رکھیں خود تو روتی بسورتی زندگی گزار ہی رہی ہیں ہماری زوجہ کو بھی اپنا جیسا بنالیا۔ پھر ہم نے سوچا کزنز کو چھوڑو ہم اپنی بیوی کے ہوش تو ٹھکانے لگا ہی سکتے ہیں۔ بس پھر ہم نے اماں کے ساتھ ذرا سی پلاننگ کی اور شروع ہو گئے۔ کہہ کر دلچسپی سے سنتی رمشا کو دیکھا پھر شرارت سے صفیہ بیگم کو آنکھ ماری ۔ گویا کہہ رہے ہوں بتا دوں۔

Click Here For More Stories 

 

صفیہ بیگم نے بھی بے نیازی سے منہ پھیر لیا۔ ہونہہ ، اتنا کچھ تو آپ بتا ہی چکے ہیں۔

        صفیہ صفیہ میری بلو والی قمیص کہاں ہے۔ کامل زور سے دھاڑا تو کچن میں برتن دھوتی صفیہ کے ہاتھ سے کانچ کا گلاس ڈر کے مارے گر کر چکنا چور ہو گیا ۔ وہ گلاس چھوڑ کر فوراً کمرے کی جانب لپکی۔ پتا نہیں ۔ میں نے تو یہیں رکھی تھی ۔ پھولی سانس کے ساتھ ہکلاتے ہوئے کہا تو کامل نے الماری کا دروازہ دھاڑ سے بند کیا۔ کیا مطلب یہیں رکھی تھی ڈھونڈ کر دو مجھے دو منٹ کے اندر اندر غصے سے اسے دیکھ کر وہ واپس واش روم کی طرف بڑھ گیا۔ دھاڑ سے دروازہ بند ہوا تو بوکھلاہٹ میں صفیہ کا ہاتھ لرز گیا اور سارے کپڑوں کی ترتیب، بے ترتیب ہو کر نیچے اس کے قدموں میں ڈھیر ہوئی۔ یا اللہ اب کیا ہوگا ان کو پہلے ہی غصہ آیا ہوا ہے۔ صفیہ لب کاٹتے ہوئے جھک کر کپڑے اٹھانے لگی، اسی اثنا میں دروازہ کھلا نیازی بیگم کی صورت نظر آئی جنہیں دیکھ کر اس کی رہی سہی ہمت بھی ڈھیر ہونے لگی۔ کیا ہوا کامل کیوں اتنے زور سے بول رہا ہے؟ کڑے تیور ۔ پیشانی پہ پڑی ان گنت تیوریاں غصہ سے بھرا انداز و لہجہ یا اللہ وہ بری طرح ڈرئی۔ امی وہ ان کی بلو شرٹ نہیں مل رہی ۔ روز اس کی کوئی نہ کوئی چیز نہیں مل رہی ہوتی ہے تم کرتی کیا رہتی ہو، ادھر چکن میں الگ تم نے گلاس توڑ دیا معلوم ہے کتنا قیمتی تھا ۔ کہہ کر نیازی بیگم غصے سے پلٹ گئیں۔ صفیہ کی آنکھیں اشکوں سے بھر گئیں پہلے تو پھپھو فورا پوچھتی تھیں۔ بیٹا گلاس کو چھوڑو نیا آجائے گا تمہیں تو نہیں لگی۔ اس نے پاؤں میں کانچ سے لگے زخم کو سہلاتے ہوئے دکھ سے سوچا۔ تم ابھی تک اتنے مزے سے بیٹھی ہوئی ہو۔ دماغ تو درست ہے نا تمہارا کب واش روم کا دروازہ کھلا اسے پتا ہی نہیں چلا ۔ تب پتا چلا جب کامل اس کے سر پہ آکر زور سے چلایا۔ اس کے اس قدر جارحانہ انداز پر آنسوؤں نے بے وفائی کی اور پلکوں سے ٹوٹ کر اس کے رخسار کو بھگونے لگے ۔ رو کیوں رہی ہو ہو نہہ۔ یہ اس وقت یاد نہیں آیا تھا جب اپنی عزیز جان سہیلیوں، آپیوں، آپاؤں کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے ہم سے بد تمیزی کر رہی تھیں ۔ کامل نے تولیہ ایک طرف اچھالتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا تو اس کی ہچکیوں میں اضافہ ہو گیا۔ اف کتنا رلایا آپ نے میری ماں کو اور تو اور کسی نے زخم کا بھی نہیں پوچھا ۔ رمشاء کامل صاحب کی بات کاٹ کر فوراً صفیہ بیگم کے ساتھ جا بیٹھی۔ اور وہ جو ہمیں تنگ کیا، وہ نظر نہیں آرہا تمہیں۔ میں تو نہیں سنا رہا کوئی کہانی شہانی کتنا رلایا میری ماں کو کامل صاحب اس کی نقل اتارتے ہوئے جل کر بولے اور اندر چلے گئے۔ پیچھے وہ دونوں ان کے روکھے انداز پہ کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔

Click Here For More Stories 

 

    کامل صاحب کے جاتے ہی صفیہ بیگم نے رمشا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ رمشا ہر کوئی تمہارے بابا اور تمہاری دادی جیسا اچھا نہیں ہوتا بیٹا۔ انہوں نے صرف مجھے احساس دلانے کے لیے وہ سب کیا یعنی غصے سے بات کرنا ڈانٹنا وغیرہ بعد میں جب مجھے احساس ہوا اور میں نے معافی مانگی تو پھپھو جان رو پڑیں کہ میری بچی تو مجھے معاف کردے میں نے کیسے تجھ سے برا سلوک کیا اور مرتے دم تک ان کو جب جب وہ بات یاد آتی مجھ سے ضرور پوچھتیں۔ صفیہ تو خفا تو نہیں ناہم سے حالانکہ سارا قصور میرا تھا ۔۔۔ اس لیے بیٹا جب لڑکی رخصت ہو کر انجان گھر جاتی ہے تو کوئی بہت ذمہ دار تجربہ کار چند نصیحتیں پلو سے باندھ کر رخصت کر دیتا ہے تو ہی ٹھیک رہتا ہے۔ کیونکہ جو لاابالی کزنز دوستیں سمجھاتی ہیں وہ ان کے اپنے ماحول کی کہانی ہوتی ہے۔ وہ کہانی جس میں حد سے زیادہ جذباتیت ہوتی ہے اور ان کے اپنے خراب رویوں کے بدلے ، خراب مزاج کی کہانیاں ہوتی ہیں۔ نہ تو ہر لڑکی کو سسرال ایک جیسا ملتا ہے نہ ہی قسمت ایک سی ہوتی ہے۔ اس لیے لڑکی کو خود ہی سمجھ داری ہے سسرالی تقاضوں کو سمجھنا چاہیے اور ان کے دلوں میں گھر کر لینا چاہیے۔ صفیہ بیگم نے آخر میں مسکراتے ہوئے رمشا کے گال سہلائے تو وہ بھی ہلکا سا مسکرادی۔ شکریہ امی! آئندہ آپ کو شکایت نہیں ملے گی۔ میں مریم کے کچے ذہن میں اپنے تلخ تجربات کا زہر نہیں گھولوں گی ۔ رمشا کا شرمندہ شرمندہ وعدہ انہیں اتنا پسند آیا کہ انہوں نے آگے بڑھ کر اس کی پیشانی چومتے ہوئے سینے سے لگا لیا۔ کامل صاحب جو باہر کسی کام سے جارہے تھے انہیں دیکھ کر پیار سے مسکرا دیے پھر شرارت بھری ہانک لگائی

Click Here For More Stories 

 

۔ کیوں بھئی کسی کی حماقتوں کی کہانی نہیں سننی۔ جی نہیں حماقتوں بھری نہیں معصومیت بھری۔ اتنی معصوم ماں ہیں میری اور میں دیکھ رہی ہوں آپ میری ممی کو بہت تنگ کرنے لگے ہیں ۔ رمشا نے کہا تو وہ منہ بناتے ہوئے باہر چل دیے۔ ان کے جاتے ہی صفیہ بیگم اور رمشا بھی مسکراتی ہوئی اندر کی طرف بڑھ گئیں ۔ سورج بھی ان کی پیاری پیاری اداؤں پہ مسکراتا ہوا ڈوبنے کے لیے لالی میں ڈھلنے لگا۔

بار بار میرے ذہین میں اماں بی مرحوم کی ایک ہی بات بازگشت کر رہی تھی۔ مرد محبت نہیں کرتا عادی ہوتا ہے

   پانی لینے کے لیے گلاس اٹھایا ہی تھا کہ طبیعت مکدر ہوگئی۔ کسی نے تیل لگے ہاتھوں سے گلاس پکڑا تھا اور پانی پی کر ویسے ہی الٹ کر گلاس کے اسٹ...