پانی لینے کے لیے گلاس اٹھایا ہی تھا کہ طبیعت مکدر ہوگئی۔ کسی نے تیل لگے ہاتھوں سے گلاس پکڑا تھا اور پانی پی کر ویسے ہی الٹ کر گلاس کے اسٹینڈ پر رکھ کر چلتا بنا تھا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ میں کسی طرح ذرا ذرا سی تفصیل پر بھنا رہا تھا حالانکہ کبھی اسے اس طرح ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بچوں کو ڈانٹتے یا سمجھاتے سنتا تو دل میں اس کی صفائی پسندی پر ناراض ہو جاتا۔ میں نے دوسرا نسبتاً صاف گلاس نکال کر سلفچی کے نلکے سے پانی لے کر پیا اور ایک عجیب سی اداسی محسوس کرتا پورے گھر میں اکیلا دیوانوں کی طرح گھوم پھر کراپنے کمرے میں واپس آ گیا۔ میں جذباتی انسان کبھی نہیں رہا ۔ بس اپنے آپ کو دوسروں کے سامنے کھولنا پسند نہیں کرتا۔ حالانکہ میں نے بھی کسی کے ساتھ کوئی زیادتی یا دل دکھانے کی بات نہیں کی پھر بھی اکثر لوگ مجھے مغرور سمجھتے تھے اور مجھ سے بات کرنے سے کتراتے تھے جب سے وہ میری زندگی میں آئی تھی۔ سب نے مجھ سب سے بات کرنے کا ذریعہ اسے بنا لیا تھا اور کیونکہ وہ نہیں تھی، لہذا گھر پر آئے ہوئے میں سے کسی نے بھی جاتے ہوئے مجھے بتایا تک نہیں تھا، شاید وہ سب مجھے کمرے میں سوتا ہوا سمجھے ہوں اور نیند خراب کرنے کے ڈر سے ہی مجھے بتایا نہ ہو۔ چھوٹی بہن کا بچوں کو لے جانے کا بھی اپنے موبائل پر چھوٹی بہن کے مسیح سے پتا چلا تھا تو اب کیا کروں ؟ کاش چھوٹی بہن جاتے جاتے دو چار منٹ مجھ سے بات کر لیتی۔ مجھے کسی کے سامنے تو اقرار کرنا ہی ہے۔ کسی کو تو بتانا ہی ہے کہ میں اس کے بغیر بہت بہت اداس ہوں اور اس کے بغیر بالکل ادھورا سا لگ رہا ہوں اور میں اس کے بغیر بالکل نہیں رہ سکتا۔
گھڑی صبح کے ساڑھے چار بجا رہی تھی یعنی میں تقریباً پوری رات ہی اسے سوچتے اسے یاد کرتے گزار چکا ہوں اور اس بات سے ہی ڈر رہا ہوں کہ کہیں وہ ہمیشہ کے لیے ہی نہ کھو جائے۔ دل پھر مچلا ۔ میں نے کچھ سوچے سمجھے بنا فون اٹھایا اور اسے میسج کیا۔ کیسی طبیعت ہے؟ حالانکہ اتنا تو مجھے معلوم ہی تھا کہ ایمرجنسی میں فون لے جانے کی اجازت نہیں لہذا اندر فون بند ہی رکھنا پڑتا ہے۔ چند سیکنڈ میں ہی جواب آ گیا۔ نماز کے لیے اٹھے ہیں؟ خلاف توقع میسج ملنے پر خوشی اپنی جگہ مگر اس کے معمول کے میسج پر میں اور بگڑ گیا- کیا کہا ڈاکٹر نے؟ میں نے بھی جیسے اس کے طریقے پر ہی چلنا چاہا۔ صبح سات بجے تک رپورٹس آئیں گی تو ہی بتائیں ہیں گے۔ آپ کچھ کھالیں پلیز- کھانے کا تو ایسے کہہ رہی ہے جیسے اسے میری ہی پرواہ ہو۔ خود وہاں ایمر جنسی میں آرام سے ہے اور میں یہاں اکیلا اور بھوکا بھی، اس کے جانے سے پہلے کھانا لگانے کا ہی کہہ دیتا۔ میں بھی تو اس قدر جذباتی ہو گیا فضول میں۔ مجھے شدید غصہ آنے لگا اور وہ بھی توصیف پر جو میرے بچپن کا دوست تھا اور میرے گھر اس کا آنا جانا گھر کے ایک فرد کی طرح تھا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ اس طرح مجھے استعمال کرے گا۔ آج تک مجھے بے بسی کا ایسا احساس نہ ہوا تھا جیسا اب ہو رہا تھا۔ اب کس طرح کیسے اظہار کروں وہ پتا نہیں کب تک رہے اور یہاں تو ایک رات گزارنی مشکل ہوگئی ہے۔ تو کیا کروں اپنے آپ کو کمزور دکھا دوں ۔ یہ بتا دوں کہ میں تو بس اپنی بیوی کے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ کس قدر مذاق اڑائیں گے سب- جیسے ہی صبح کی سفیدی نمودار ہوئی میں تیار ہو گیا۔ اس کے جاتے ہوئے میں نے یہی ظاہر کیا تھا کہ وہ جاتی ہے تو جائے ۔ میرے معمول میں ذرہ بھر بھی فرق نہیں پڑے گا۔ میں نے آفس سے چھٹی تک نہیں کی تھی اور جب وہ جارہی تھی تو میری طرف اس نے کئی بار دیکھا تھا۔ وہ اچھی طرح سمجھ گئی تھی کہ صبح میری اس سے ہونے والی ہلکی سی جھڑپ کے نتیجے میں اسے توصیف کے ساتھ بھیجا جا رہا ہے۔ اس نے مجھے آفس فون کر کے بات ختم کرنی چاہی تھی مگر میں ضد پر اترا ہوا تھا۔ آخر جب کچھ نہ بن پڑا تو وہ بول پڑی۔ آپ ہی بتائیں۔ میرا تو میکہ بھی نہیں ہے کہ میں کچھ دنوں کے لیے بچوں کو لے کر وہاں چلی جاؤں کہ آپ کا غصہ کچھ کم ہو سکے۔اور جب وہ قدرت کے پیدا کردہ موقع پر واقعی جا تو رہی تھی تو میں دونوں ہاتھ سینے پر باندھے ایک ضدی بچے کی طرح فاتحانہ انداز میں دروازے پر کھڑا بس اسے جاتے دیکھ رہا تھا اور دل میں عہد کر چکا تھا کہ میں اس کی غیر موجودگی میں مزے کروں گا لیکن اب مجھے واقعی مزہ آ گیا تھا۔
تمام بھائیوں اور چھوٹی بہن کو میری اس سے ان بن کا پتا چل گیا تھا اور وہ سب کے سب اس کے جاتے ہی میرے گھر آ کر بھی بس ادھر ادھر بیٹھ کر کھاپی کر چلے گئے تھے کیونکہ بات تو مجھ سے کرنے کی لیے کسی کی بھی ہمت نہ تھی۔ تیار ہو کر میں نے چھوٹی بہن کو فون کر دیا کہ وہ بچوں کو اسکول نہ بھیجے اور پھر سوچ بچار کر کے کہ ان سب کی بھی جان میں جان آجائے یہ بھی لکھ ڈالا کہ اب بچوں کی ماں ہی واپس آ کر اسکول بھیجے گی۔ یوں تو میری لاڈلی چھوٹی بہن شادی شدہ دو بچوں کی ماں تھی مگر اپنے بچوں کے لیے میں ایک تو کسی کو پریشان کرنا نہیں چاہتا تھا اور کہیں کہیں مجھے اپنی بہن پر بھروسا یا اعتبار کی کمی بھی محسوس ہوتی تھی۔ مجھے اس کا اپنے بچوں کے لیے بہت حساس ہونا پسند تھا اور میں خود بھی اس کے رنگ میں رنگ چکا تھا۔ یہ میرے بچے ہیں اور ہماری ذمہ داری ہیں۔ میں آفس کی تیاری کر کے نکلا مگر میرا رخ ہسپتال کی طرف ہو گیا۔ بہت سمجھایا۔ خود کو بہت منایا ایسی کمزوری ساری عمر کا روگ بن جایا کرتی ہے اب ہمّت کر کے کہ کے ایک فیصلہ کیا ہی۔ ضد ہے تو نبھاؤں مگرنا بھئی دل نے تو سینے میں اس قدر ادھم مچا دیا کہ مردانگی، ضد، خود سری سب دھری کی دھری رہ گئی۔ ہسپتال کے ایمر جنسی وارڈ کے باہر توصیف ٹہلتا نظر آ گیا اور میرا غصہ سے پارا ایک بار پھر اوپر پہنچ گیا۔ ہاں بھئی کیا پروگریس ہے؟ کب تک رہو گے یہاں؟ میں نے تنک کر پوچھا توصیف جو مجھے دیکھ کر ایک کر میرے گلے لگا تھا۔ جھٹکا کھا کر پیچھے ہٹ گیا۔ ابے تو تو ایسے کہہ رہا ہے جیسے کب سے بھابی کو میں نے روک رکھا ہو؟ توصیف ہمیشہ سے میرے دل کی بات کو فوراً سمجھ جایا کرتا تھا اور اس کی عادت تھی بغیر لیپا پوتی کے میرے منہ پر جواب مار دیتا تھا ۔ لہذا میں پہلے گڑ بڑایا۔ پھر شیر ہونے میں عافیت سمجھی ہمیشہ سے احسان فراموش ہے تو …. ماننا تو تجھے ہے نہیں۔ مجھ سے جواب نہ بن پڑا تو تلملا گیا اور توصیف کو چھوڑ کر ایمرجنسی میں جانے کے لیے بڑھا۔ ا ہے ٹھہر جا میرے تیر کمان کمرے میں شفٹ کر دیا ہے۔ تجھے بتا نہیں سکے تھے۔ اسی لیے میں یہاں کھڑا تھا۔ ایسی شاندار جوڑی ہے تیری ، سبحان اللہ کہ مجھے بھابی نے صبح پانچ بجے سے ہی کہہ دیا تھا کہ تو آتا ہو گا اب چل جنرل وارڈ میں نے پلٹ کر توصیف کو گھورا تو وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا۔
ابے چل ناں مجھ سے بھی چھپائے گا کیا ۔ بیٹا۔ امی نے تو رات میں ہی کہہ دیا تھا کہ ناحق بھائی کو تکلیف دی ، امی کے ساتھ رات میں رکنے کے لیے میری دونوں بہنیں بھی تو ہیں پر تو اس وقت اس قدر بضد تھا کہ ہم بھابی کو لے آئے ۔ اب بتا ، ہمارا کیا قصور؟ بات یہ ہے کہ بچے پریشان ہیں، آج ان کی اسکول کی چھٹی بھی ہو گئی اس لیے بس مجبوری ہے یار سمجھا کرو۔ میں نے بات بنائی مگر وہ بھی میرے بچپن کا دوست تھا۔ آپ بالکل درست فرما رہے ہیں جناب ومکرمی مگر کبھی کبھی سچ بولنے میں حرج نہیں چلو ہم سے نہ سہی، اپنے آپ سے تو سچ بولو اور لگے ہاتھوں کبھی کبھار اپنی بیوی سے اظہار بھی کر دیا کرو۔ آخر بیوی ہے یار ! وہ بھی اکلوتی دیکھو ناں تم نے زبردستی بھابی مطلب اپنی بیوی کو میری امی کے ہسپتال جانے کا سن کر روانہ کر دیا اور حکم بھی صادر کر دیا کہ جب تک امی ٹھیک ہو کر گھر نہیں چلی جاتیں وہ امی کے ساتھ ہی رہیں۔ ناراضی ناچاقی تو ہوتی رہتی ہے میاں بیوی میں مگر ایسے کوئی تھوڑی ناں کرتا ہے۔ خیر اچھا ہوا کہ تمہارا موڈ رات بھر میں ہی ٹھیک ہو گیا ، اب بھابی کو لے کر جاؤ اگر تم نہیں بھی آتے میں خود چھوڑ آتا ان کو …. اور آج کا دن صرف ان کے ساتھ گزارو۔ بچے چھوٹی بہن کے پاس رہنے دو۔ رات میں جا کرلے آنا، سمجھے اتنی اچھی سمجھ دار بھابی ہیں ہماری۔ قدر کرو میرے بھائی اور امی الحمد اللہ بالکل ٹھیک ہیں ، ہو سکتا ہے کل تک ان کو ڈسچارج بھی کر دیں۔ تمہارا اور بھابی کا شکریہ کہ انہوں نے اس مشکل وقت میں ساتھ دیا۔ بار بار میرے ذہین میں اماں بی مرحوم کی ایک ہی بات بازگشت کر رہی تھی۔ مرد محبت نہیں کرتا عادی ہوتا ہے۔ میں نے سر جھٹک کر اماں بی مرحوم کی بات کا جواب دیا۔ نہیں اماں بی ! مجھے اس کی عادت نہیں، اس سے محبت ہو گئی ہے۔ گو توصیف میرے بچپن کا دوست تھا مگر آج سے پہلے وہ مجھے اتنا پیارا کبھی نہیں لگا تھا۔
No comments:
Post a Comment